ریا

اخلاص کا متضاد ریاکاری آیات اور اسلامی روایات میں اس کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ر یا کاری ا عمال کو باطل کرتی ہے منافقوں کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ریاکاری ہے اور ایک قسم کا خدا کے ساتھ شریک قرار دینا ہے۔ ریاکاری اخلاقی فضائل کو نابود کردیتی ہے اور انسان کی روح اور جان کے اندر اخلاقی رذائل کا بیج بوتی ہے۔ ریاکاری انسان کے اعمال کو خالی اور حقیقت پر عمل کرنے سے روکتی ہے یہ شیطان کے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے جو وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

قرآن کریم کی نظر سے ریاکاری

ریاکاروں کی حقیقت اور ان کے اعمال کے نتائج کو قرآن کی نظر سے دیکھتے ہیں:

پہلی آیت:" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالأذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ"([1])

"ایمان والو اپنے صدقات کو منت گزاری اور اذیت سے برباد نہ کرو جو اپنے مال کو دنیا دکھانے کے لیے صرف کرتا ہے اور اس کا ایمان نہ خدا پر ہے اور نہ آخرت پر اس کی مثال اس صاف چٹان کی ہے جس پر گرد جم گئی ہو کہ تیز بارش کے آتے ہی بالکل صاف ہوجائے۔ یہ لوگ اپنی کمائی پر بھی اختیار نہیں رکھتے اور اللہ کافروں کی ہدایت بھی نہیں کرتا۔"

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:اس آیت میں احسان جتلانا کسی کو اذیت کرنا اور ریاکاری کو ایک ہی صف میں شمار کیا گیا ہے اور ان سب کو صدقات (نیک اعمال) کی نابودی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دوسرا نکتہ: ریاکار شخص خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔

"اے ایمان ۔۔۔

تیسرا نکتہ: اس آیت کے ذیل میں ایک معنی خیز مثال ذکر کی گئی ہے "کہ اُن کی مثال پتھر کی مانند ہے کہ اس کے اوپر خاک سے دھول بیٹھ گئی ہو ۔۔۔ اِن ساری چیزوں کو چھوڑ دے۔

چوتھا نکتہ:ایسے لوگ یقینی طور پر اپنے انجام دیئے گئے فعل سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور خدا کاف روں کو ہدایت نہیں کرتا۔

پانچواں نکتہ: اس آیت میں اشارتاً ایک بار تو ریاکاروں کو خدا اور آخرت پر ایمان سے خالی اور دوسری بار انہیں کا فر قوم کہ جن کے اعمال کو بے کار، اور ہر قسم کی اہمیت سے خالی شمار کیا گیا ہے کیونکہ اُن کے اعمال ریاکاری کی زمین پر بیچے گئے ہیں کہ جہاں کسی قسم کی رشد اور نمو نہیں ہے ممکن ہے کہ اس آیت میں خود  ریاکاروں کو پتھر کی مانند کہا گیا ہے کہ جن کے اوپر خاک کی ایک تہہ ہے جس میں کسی قسم کا بیج نہیں اُگایا جا سکتا۔

جی ہاں! ا ن کے دل پتھر ا ور روح کسی بھی چیز کے نفوذ کے لیے ناپذیر ہیں اور اُن کے اعمال بے بنیاد اور اُن کی نیت آلودہ ہے۔

چھٹا نکتہ: اس آیت سے اگلی آیت میں خدا مخلصین اور اُن کے اعمال کو ایک پر برکت باغ سے تشبیہ دیتا ہے کہ جہاں اُن کے نیک ا عمال بیچے جاتے ہیں اور کافی باران اُن پر برستی ہے اور ہر طرف سے سورج اُن پر چمکتا ہے اور ہر طرف سے نسیم باد اُن کی طرف آتی ہے اور جو اس کے پھل کو دوگنا کردیتے ہیں۔

دوسری آیت:" فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا " ([2])

"لہذا جو بھی اس کی ملاقات کا امیدوار ہے اُسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور کسی کو اپنے پروردگار کی عبادت میں شریک نہ بنائے۔"

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:اس آیت میں خداوند پیغمبر ﷺ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے حکم دیتا ہے۔ خالص توحید کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے طور پر لوگوں کو تبلیغ کرو۔

"کہہ دو کہ میں تم لوگوں کی طرح بشر ہوں (میری برتری صر ف یہ ہے کہ) البتہ مجھے وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہے"۔

اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس اصول کی بنیاد پر تمام اعمال خالص اور ہر قسم کے شرک سے خالی ہونے چاہیے اور خداوند فرماتا ہے: " لہذا جو بھی اس کی ملاقات کا امیدوار ہے اُسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور کسی کو اپنے پروردگار کی عبادت میں شریک نہ بنائے۔"

اس ترتیب سے عباد ت میں شرک نہ صرف توحید کے اصول کو توڑتا ہے بلکہ قیامت کے عقیدہ کو بھی ختم کردیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بہشت میں داخل ہونے کا پروانہ نیک اور خالص اعمال ہیں۔

دوسرا نکتہ: اس آیت کے شان نزول میں کہا گیا ہے کہ جندب بن زہیر نامی شخص نے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اپنے اعمال کو خدا کے لیے انجام دیتا ہوں اور میرا مقصد خدا کی رضا ہے لیکن جب لوگ ان اعمال سے آگاہ ہوتے ہیں تو میں بہت ہی خوش اور مسرور ہوجاتا ہوں، پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

ان اللہ ۔۔۔ ماشورک فیہ۔ خدا پاک ہے اور صر ف پاک اعمال کو قبول فرماتا ہے اور جن اعمال میں اُس کے علا وہ کسی اور کو بھی شریک کیا جائے وہ ایسے اعمال کو قبول نہیں کرتا۔([3])  اس کےبعد مندرجہ ذیل بالا آیت نازل ہوئی۔

تیسری آیت:" إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا " ([4])

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:ریاکا ری کو منافقوں کے اعمال میں شمار کیا گیا ہے جو چاہتے ہیں کہ خدا کو فریب دیں جبکہ وہ اُنہیں فریب دے رہا ہے جب نماز کیلئے اٹھتے ہیں تو سستی کرتے ہیں اور صرف لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہیں اور سوائے کچھ لوگوں  کے کوئی یاد نہیں کرتا۔

دوسرا نکتہ: یہ نکتہ توجہ کے قابل ہے کہ نفاق دو چہرے ہے ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ریاکاری کے بھی دو چہرے ہیں ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ کیونکہ ظاہری طور پر وہ اپنے اعمال کو خدا کے لیے انجام دے رہا ہے لیکن باطنی طور پر یہ اعمال ریا اور شیطان کے لیے ہیں۔ اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہیں ، اس لیے یہ قدرتی بات ہے کہ  ریاکاری منافقوں کے اعمال میں سے ہیں۔

چوتھی آیت: " وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا"([5])

"اور  وہ لوگ اپنے اموال کو لوگوں کے دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس کا شیطان ساتھی ہوجائے وہ بدترین ساتھی ہے۔"

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: ریاکار انہ اعمال، خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے کے اور شیطان کی ہمنشینی کے برابر ہے۔

دوسرا نکتہ: اس ترتیب سے ریاکار شیطان کا دوست اور خدا اور آخر ت پر ایمان ن ہیں رکھتا۔

پانچویں آیت:" وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ " ([6])

"اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے نکلے اور راہ خدا سے روکتے رہے اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: خدا مسلمانوں کو کفار کہ جن کے  اعمال ریاکاری اور ہواو ہوس اور نمائش سے لبریز ہیں کہ ہم سو ہونے سے منع فرماتا ہے۔

دوسرا نکتہ: قرائن کے مطابق جو کہ اس آیت میں موجود ہیں اور مفسرین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ آیت جنگ بدر میں قریش کے سپاہیوں کی حرکت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ لوگ مکے سے آتے ہوئے لہو و لعب (موسیقی کے آلات) کچھ گلوگاروں اور شر اب وغیرہ لائے تھے اگر یہ لوگ بت پرستی کرتے تھے تو وہ بھی ریاکاری سے کرتے تھے تاکہ لوگوں کی توجہ جلب کرسکیں۔

تیسرا نکتہ: قرآن کریم مومنوں کو اس طرح کے کاموں سے منع  کیا ہے اور حکم دیا کہ تقویٰ اور خلوص کی رعایت کرتے ہوئے تمام مشکلا ت پر غلبہ حاصل کریں اور ہوس پرست اور بے ایمان اور ریاکار لوگوں کی بدر کے میدان میں لکھی گئی تقدیر کو فراموش نہ کریں۔

چھٹی آیت:" فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (٤)الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ (٥)الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (٦)وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ " ([7])

تباہی ہے اُن نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔ دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں ۔ اور معمولی ظروف بھی عادیت پر دینے سے انکار کرتے ہیں۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:اس آیت میں ریاکاری کو ایک اور طریقے سے سرزنش کی گئی  ہے اور فرمایا گیا ہے۔

دوسرا نکتہ: "ویل" کی تعبیر قرآن کریم میں ۲۷ مرتبہ استعمال کی گئی ہے اور یہ تعبیر بہت ہی بڑے سنگین گناہوں کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

ریاکار کے لیے اس تعبیر کا استعمال اُس کے عمل کی پلیدگی اور برائی کی شدت کو بیان کر رہی ہے۔

اسلامی روایات میں ریا

اسلامی احادیث میں ریاکاری کو خطرناک ترین گناہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ا ن میں سے کچھ روایات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:"اخوف ما ۔۔۔ الخفیۃ" ([8])

"تمہارے لیے خطر ناک ترین چیز جس سے میں ڈرتا ہوں ریاکاری اور چھپی ہوئی شہوت ہے"۔

ظاہراً چھپی ہوئی شہوت سے مراد وہی ریاکاری ہے۔

۲۔ آپ نے فرمایا: "لا یقبل ۔۔۔ من ریا"([9])

"جس عمل میں ریا کا  ذرہ موجود ہو خدا اُس عمل کو قبول نہیں کرے گا"۔

۳۔ ایک اورحدیث میں فرمایا ہے: "انّ المراعی ۔۔۔ تعمل لہ"([10])

"قیامت کے دن ریا کار کو بلایا جائے گا اور کہا جائے گا اے فاجر! اے حیلہ باز، اے عہد شکن اور اے ریاکار! تمہارے اعمال کھو گئے ہیں اور تیرا اجر نابود ہوگیا ہے۔ جاؤ اور جس کے لیے تو نے اپنے اعمال انجام دیئے اسی سے اجر لو۔"

۴۔ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے پیغمبر ﷺ کو گریہ کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ آپ گریہ کیوں فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا:

"انی تخوفت علی ۔۔۔ با اعمالھم"([11])

"میں اپنے امت کے شرک اور مختلف اقسام کی پرستش سے افسردہ ہوں جان لو کہ وہ بتوں کو نہیں پوجیں گے نہ ہی سورج اور چاند کو اور نہ ہی پتھر کے ٹکڑوں کی پرستش کریں گے لیکن وہ اپنے اعمال میں ریا کریں گے  اور اس طریقے سے شرک کی وادی میں داخل ہوجائیں گے۔ "

۵۔ ایک اور حدیث میں آپ  ؑ نے فرمایا ہے:

"ان الملک ۔۔۔ اراد بھا" ([12])

"فرشتہ انسان کے اعمال کو خوشی کے سا تھ آسمان کی طرف لے کر جا رہے ہوں گے جب اُس کی نیکیوں کو اوپر لے کر جا رہا ہوتا ہے  تو خداوند فرماتا ہے ا سے جہنم میں قرار دو اُس نے اپنے عمل کو میرے لیے انجام نہیں دیا۔"

ریاکاروں کی نشانیاں

ان احادیث  اور ان سے ملتی جلتی احادیث کے مطالعہ کے بعد بہت سے لوگ ریاکاروں کی شخصیت میں وسوسہ میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ البتہ انسان کو ریا کے متعلق سخت گیر ہونا چاہیے کیونکہ ریا ا نسان کے عمل میں مخفی اور خطرناک  ہے اور کس قدر برا ہو کہ ایک انسان سالہا سال ایک عمل کو انجام دیتا رہے اور پھر اُسے معلوم ہو کہ اُس کا وہ عمل ریاکارانہ تھا دوسرے ہر مسئلے کی طرح اس مسئلے میں افراط اور تفریط غلط اور اشتباہ ہے، ا نسان کو چاہیے کے ریا کی علائم کے زریعے اس کو پہچانے اور اس سے پرہیز کرے لیکن وسواس غلط ہے۔

ریاکارانہ اور غیر ریاکارانہ عمل کی پہچان کے لیے روایات میں مو جود معیار ہی بہتر ہیں جیسا کہ روایات میں موجود ہے۔

امیر ا لمومنین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

للرائی اربع علامات: ریاکار کی چار علامتیں ہیں۔

یکسل اذا کان وحدہ: اگر تنہا ہو تو اپنے اعمال کو سستی کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

و ینشط اذا کان فی الناس: اگر لوگوں کے درمیان ہو تو سرور کے ساتھ اعمال کو انجام دیتا ہے۔

و یزید فی العمل اذا اثنی علیہ: جب بھی اُس کی  تعریف کی جائے اعمال میں اضافہ کرتا ہے۔

و ینقص منہ اذا لم یثنی علیہ: اور جب بھی اُس کو نہ سراہا جائے تو اعمال کو کم کر دیتا ہے۔([13])

کیا عبادت میں لطف اخلاص کے خلاف ہے؟

یہ سوال بہت سے لوگ خود سے کرتے ہیں کہ عبادت کے بعد اپنے اندر خوشی اور لطف اندوزی کا احساس کیا ریا کی علامت نہیں ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس لطف اندوزی و سرچشمہ توفیقی  ہو جو خدا نے اُسے دی ہے اور اس سرور کی وجہ عبادات سے پیدا ہونے والی نورانیت اور روحانیت ہو تو خلوص کے متضاد کچھ بھی نہیں ہے۔

ہاں! اگر یہ سرور، لطف اندوزی لوگوں کے اس کے اعمال کے مشاہدے کے بعد حاصل ہو تو یہ خلوص کے خلاف ہے۔ اگرچہ ا س کے عمل کے باطل ہونے کا موجب نہیں بنے گا اُس کی طرف یہ ہے کہ لوگوں کے مشاہدے کے اثر میں وہ اپنے اعمال کی مقدار یا کیفیت میں کوئی تغییر نہ لائے۔

یہ معنی  اسلامی روایات میں بھی موجو د ہے۔

امام باقر علیہ السلام ایک صحابی کے سوال کے جواب میں بیان کرتے ہیں اُس صحابی نے امام علیہ السلام سے عرض کیا۔ کسی نے نیک عمل انجام دیا اور دوسرا اُسے دیکھ رہا ہو صاحب عمل خوش ہو۔ کیا یہ معنی اُس کے خلوص کے خلاف نہیں ہے؟

امام نے فرمایا: لا بأس ۔۔۔ لذلک

کوئی اشکال نہیں ہے جس کسی کو پسند ہو کہ وہ لوگوں کے درمیان اور آکار نیک کام انجام دے (اور لوگ اُسے نیک شخص کے طور پر پہچانتے ہو) اس نیک عمل کی شر ط یہ ہے کہ وہ اس عمل کو اس مقصد کے لیے انجام نہ دیں۔([14])

ایک اور  حدیث میں ہے اسی سے ملتا جلتا سوال ابوزر نے رسول اللہ ﷺ سے کیا ، عرض کیا کہ ا یک شخص قصد قربت کی نیت سے عمل کو  انجام دے او رلوگ اُسے پسند کریں۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

تلک عاجل بشری المومن: یہ ایک جلدی ملنے والی خوشخبری ہے جو مومن کو اسی دنیا میں نصیب ہوئی ہے۔([15])

 ریا کی اقسام اور  احکام

بڑے بڑے فقیہوں نے انسان کے عمل میں ریا کے داخل ہونے کو دس صورتوں میں بیان کیا ہے۔

1.    سب سے پہلے وہ عمل جو صرف لوگوں کے لیے انجام دیا جائے یہ عمل باطل ہے۔

2.    دوسرا یہ کہ اُس کا عمل خدا کے لیے بھی ہو اور ریا کے لیے بھی۔ یہ عمل بھی باطل ہے۔

3.    تیسرا یہ کہ اپنے واجب عمل کے کچھ اجزاءریا کی نیت سے انجام دیئے جائیں جیسے کہ رکوع یا سجود جو کہ واجب نماز کے رکن ہیں کو ریاکاری کے ساتھ انجام دیا جائے ا یسا عمل بھی باطل ہے اگرچہ اس کے عمل کا کچھ حصہ ریا سے پاک ہو۔ اسی لیے ر یا کو نماز کے لیے وضو کے باطل ہونے سے نماز باطل  ہوتی ہے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگرچہ ا حتیاط یہ ہے کہ  ریاکا ری سے انجام دیئے گئے عمل کو دوبارہ انجام دے یا نماز ختم کرنے کے بعد دوبارہ پڑھے۔

4.    چوتھا یہ کہ اگر اس نے عمل کے مستحب اجزاء جیسے قنوت کو ریاکاری سے انجام دیا ہو عمل کے باطل ہونے کا موجب ہے۔

5.    پانچواں یہ کہ عمل کو خدا کے لیے انجام دیا جائے لیکن ایسی جگہ انجام دیا جائے جہاں مقصد خدا نہ ہو ایسا عمل بھی باطل ہے۔

6.    وقت میں بھی ریاکاری سے کام لے جیسے کہ نماز کا ادا کر نا خدا کے لیے ہے لیکن کے ساتھ ا ول وقت انجام دینا بھی اس عمل کے فاسد ہونے کا باعث ہے۔

7.    عمل کی خصوصیات کے حوالے سے ریاکاری کرے جیسے کہ نماز کو باجماعت ادا کرنے یا خضوع اور خشوع کے ساتھ نماز کو پڑھنا۔ درحا لانکہ اُس  نے نماز قصد قربت سے پڑھی ہو لیکن اوصاف میں ریاکاری برتی ہو۔ ایسا عمل بھی باطل ہے کیونکہ اوصاف موصوف سے جدا نہیں ہیں۔

8.    عمل کو خلوص کے ساتھ انجام دینا لیکن اُس کے مقدمات میں سے کسی ایک میں ریاکاری کرنا جیسے کے نماز مسجد میں پڑھنا خلوص کے ساتھ لیکن مسجد کی طرف جانے میں ریاکاری شامل ہو بہت سے فقیہ ا س قسم کی ریا کو عمل کے باطل ہونے کا باعث نہیں مانتے کیونکہ مقدمات عمل سے خارج ہیں اور فقہی قاعدہ بھی یہی کہتا ہے۔

9.    خارجی ا وصاف میں ریاکاری کرنا جیسے کہ تحت العنک کو گلے میں ڈالنا ریاکاری کے ساتھ ہو۔ اگرچہ یہ عمل برا ہے لیکن باطل ہونے کا باعث نہیں ہے۔

10.           عمل کو صرف خدا کے لیے انجام دیا جائے لیکن اگر لوگوں کے دیکھنے سے خوش ہو لیکن اس کے عمل میں کسی قسم کی تغییر پیدا نہ ہو تو ریا کی ایسی قسم عمل کو باطل نہیں کرتی بلکہ یہ خود ریا نہیں ہے۔

مقدمہ

اس درس میں ریا کے معنی اور آیات اور ا حادیث کی روشنی میں ریاکاری کو بیان کیا گیا ہے۔ ریاکا روں کی علائم، اور اخلاص اور ریاکاری کا عبادت میں موجود ہونا او رریا کی اقسام بیان کی گئی ہیں۔

خلاصہ

1.    منافقین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ریا ہے۔

2.    ریاکاروں کے اعمال باطل اور بے فائدی ہیں۔

3.    خدا مخلصین کے اعمال کو ایک پر برکت باغ  سے تشبیہ دیتا ہے۔

4.    توحید اسلام کے بنیادی اصول میں ہے ریا شرک کا باعث ہے۔

5.    ریاکاری دو چہرے کی حامل ہے۔

6.    ریاکار شیطان کا دوست ہے۔

7.    مومنین کبھی بھی کفار کی راہ و روش کو نہ اپنائیں۔

8.    ریاکار کی چار علماتیں ہیں۔

9.    عبادت میں لطف اگر عوام کی وجہ سے ہو تو شرک اور ریا ہے۔

10.           فقہاء نے ریا کی دس اقسام بیان کی ہیں۔

سو الات

# ریاکار پتھر کی مانند ہے۔

·       جہاں نیک اعمال کا اثر نہ ہو

·       جس پر خاک کی تہہ جمی ہو

·       جس پر کسی قسم کا بیج نہ بویا جاسکے

·       * ب اور ج

# عبادت میں شرک

·       * عبادت میں ریا کاری کا شامل ہونا

·       خدا کی عبادت کرنا

·       غیر خدا کی عبادت کرنا

·       ہر معبود کی عبادت کرنا

# ریاکار کا دوست

·       خود انسان ہے

·       * شیطان ہے

·       اعمال بد

·       جہنم کے فرشتے

# "ویل" کو قرآن کریم میں ۔۔۔ بار استعمال کیا گیا ہے۔

·       ۳۰ مرتبہ

·       ۱ مرتبہ

·       ۲۷*  مرتبہ

·       ۱۰۰ مرتبہ

# پیغمبر ﷺ مسلمانوں  کے ۔۔۔۔۔ سے افسردہ تھے۔

·       شرک سے

·       ریا کاری سے

·       ہواء نفس سے

·       * ریاکاری اور چھپی شہوت سے

# ریا کی علائم میں سے ہے۔

·       دوسروں کے منع کرنے سے عمل چھوڑ دے۔

·       دوسروں کی غیر موجودگی میں بطور ا حسن عمل انجام دے۔

·       دوسروں کی موجودگی میں اپنے اعمال کو سرور کے ساتھ انجام دے۔

·       * غیر موجودگی میں اپنے عمل کو خو د سراہے۔

# عبادت میں لطف کی وجہ ۔۔۔۔ ریا ہے۔

·       اگر توفیق ہو جو خدا نے نصیب فرمائی ہے

·       اگر سکون اور آرامش روح ہو

·       * اگر لوگوں کے مشاہدے کی بناء ہو

·       اگر عمل کے بہتر ہونے کا احساس ہو

 



[1] ۔سورہ بقرہ، آیت ۲۶۴۔

[2] ۔سو رہ کہف، آیت ۱۱۰۔

[3] ۔تفسیر قرطبی، ج۶، ص ۴۱۰۸، ۴۱۰۹۔

[4] ۔سورہ نساء، آیت ۱۴۲۔

[5] ۔سورہ نساء، آیت ۳۸۔

[6] ۔سورہ ا نفال، آیت ۴۷۔

[7] ۔سورہ  ما عون، آیت ۴سے ۷۔

[8] ۔محجۃ البیضاء، ج۴، ص ۱۴۱۔

[9] ۔محجۃ البیضاء، ج۶، ص ۱۴۱۔

[10] ۔ہمان۔

[11] ۔ہمان۔

[12] ۔اصول کافی، ج۲، ص ۲۹۵۔

[13] ۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲، ص ۱۸۰۔

[14] ۔وسائل الشیعہ، ج۱، ص ۵۵۔

[15] ۔وسائل الشیعہ، ج۱، ص ۵۵۔

حجت مشن

۲۲ بهمن انقلاب اسلامي ايران جي سالگره انقلاب اسلامي ايران جي سالگره تي تمام مؤمنن کي حجت مشن پاران مبارڪابد عرض ڪيون ٿا الله سائين هن اسلامي انقلاب کي ترقي عنايت فرمائي 

Template Design:Dima Group

Back to Top