جود اور سخاوت

اس درس کے تعلیمی مقاصد

1.    جود اور سخاوت کے معنی سے آشنائی

2.    قرآن کریم کی نظر میں جود اور سخاوت کی اہمیت اور مقام

3.    احادیث اور روایات میں جود اور سخاوت کا مقام

4.    جود و سخاوت کے اثرات

5.    سخاوت کی حد اور سخاوت کے طریقے

مفہوم

جود اور سخاوت، بخل کے متضاد ہیں اور یہ دونوں کلمہ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں لیکن کچھ کلمات میں جود کو سخاوت سے برتر کیا گیا ہے کیونکہ جود کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ کسی مانگنے سے پہلے اور ساتھ ہی عطا کی گئی چیز کو بہت کم اور تھو ڑا سمجھنا۔

اور کبھی کہا گیا ہے کہ جود یعنی لوگوں کے مانگنے یا اُس سے سوال کرنے سے خوش ہونا اور عطا کرتے ہوئے بہت ہی خوش ہونا۔

کچھ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ جود ایک ایسی بخشش ہے کہ جس میں مال کو خدا کا مال سمجھنا ہے اور سائل کو خدا کا بندہ سمجھنا ہے اور خود کو خدا اور  اُس کے بندے کے در میان واسطہ سمجھتا ہے جبکہ سخاوت کا معنی بہت وسیع ہے جس میں فیاضی اور بخشش شامل ہے۔

کچھ او ر لوگوں کا کہنا ہے: اپنے مال کا کچھ حصہ کسی اور کو بخشنا اور کچھ حصے کو اپنے لیے رکھنا ایسے شخص ہم سخی کہتے ہیں اور جو شخص اپ نے مال زیادہ حصہ بخش دے اور بہت ہی کم اپنے لیے رکھے اسے جود کہتے ہیں۔

ان تمام تعریفوں کے بعد یہ معلوم ہوگیا ہے کہ جود سخاوت سے برتر ہے۔

قرآن کریم کی نظر میں جود اور سخاوت

اگرچہ قرآن کریم میں  کلمہ جود اور سخاوت استعمال نہیں کیا گیا لیکن یہ مفہوم دوسری تعبیرات کے ساتھ نظر آتا ہے اور قرآن پاک میں بھی اس کے لیے بہت اجر بیان کیا گیا ہے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل آیات کی طرف اشار ہ کرتے ہیں۔

پہلی آیت:" وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ" ([1])

ترجمہ:اور جن لوگوں نے دار الہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انھیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی طرف سے کوئی ضرورت نہیں کرتے ہیں اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انھیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔ اور جسے بھی اس کے نفس کی حرص سے بچالیا جائے وہی لوگ نجات پانے والے ہیں"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:اس آیت میں مدینہ کے سخاوت مند انصارین کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے مکہ سے آئے مہاجرین کا کھلےدل سے استقبال کیا وہ مہاجرین جن کے پاس گھر اور کاروبار نہیں تھا مدینہ کے انصار مہاجرین کو خود پر مقدم رکھتے تھے اور یہاں تک کے انھوں نے کہا:"کہ ہم اپنے مال اور اپنے گھروں کو اُن کے ساتھ تقسیم کریں گے اور مال غنیمت کی طرف بھی توجہ نہیں کریں گے۔

دوسرا نکتہ: قرآن اُن کے بارے میں فرماتا ہے: "جن لوگوں نے دار الہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے  والے کو دوست رکھتے تھے ۔۔۔ چاہے انہیں خود کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو۔"

کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ بشریت کی تاریخ میں اس قسم کی سخاوت ا س سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی کہ نا آشنا لوگ ایک شہر میں داخل ہوں اور شہر کے مومنین ان کا اس طرح استقبال کریں کے اپنے اُوپر ان کو مقدم رکھیں اور اپنی زندگی کی جمع پونجی کو اُن کے ساتھ بانٹ دیں۔

تیسرا نکتہ: کچھ روایات میں ہے کہ مہاجرین کی تعداد میزبانوں سے کم تھی۔ اسی وجہ سے کبھی کبھی دو یا دو سے زیادہ لوگوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا اور اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے قرعہ کشی کی جاتی۔

چوتھا نکتہ: بہرحال خدا انصار کی اس محبت، بلندی نظری، سخاوت اور ایثار کو سراہتا ہے۔

دوسری آیت:" وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (٨)إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلا شُكُورًا "([2])

ترجمہ:"یہ اس کی محبت میں مسکین، یتیم اوراسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں ان بزرگوں کا ذکر کیا گیا ہے  جنہوں نے سخت ضرورت کے باوجود اپنا کھانا یتیم، مسکین اور اسیر کو دے دیا اور انہیں ان سے کسی قسم کے تشکر اور جزا کی امید تک نہ تھی۔

دوسرا نکتہ: بے شمار سنی اور شیعہ روایتوں کے مطابق سورہ دہر کی آیت نمبر ۸ و ۹ اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے۔

مرحوم علامہ امینی نے اپنی مشہور کتاب الغدیر میں اہل سنت کے مشہور علماء (۳۴) کا ذکر کیا ہے۔ جنہوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ کتاب کے نام اور  صفحہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

تیسرا نکتہ:اہل سنت میں بھی مشہور ہے بلکہ متواتر ہے اور شیعہ علماء نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سورہ دہر یا اُس کا کچھ حصہ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوا ہے۔

پیغمبر ﷺ کے اہل بیت سے مراد (علی، فاطمہ، حسن ، حسین علیہم السلام) ہیں ۔

چوتھا نکتہ: سورہ دہر کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح خدا ایثار اور سخاوت کرنے والوں کی تعریف کرتا ہے اور اُن کے اس نیک عمل کو سب سے اعلیٰ اجر کا مستحق قرار  دیتا ہے ایک جگہ اُنہیں "ابرار" اور ایک جگہ ا ُنہیں "عباد اللہ" کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔

تیسری آیت:" مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ "([3])

ترجمہ: "جو لوگ راہ  خدا میں اپنا اموال خرچ کرتے ہیں اور اس کے بعد احسان نہیں جتاتے اور اذیت بھی نہیں دیتے۔ ان کے لیے پروردگار کے یہاں اجر بھی ہے اور نہ کوئی خوف ہے نہ حزن"۔

آیات کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں خدا سخاوت مندوں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے بے مثال حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

دوسرا نکتہ: اگر آیت کو اس کے ظاہر کے خلاف تفسیر کریں۔ اور حذف اور تقدیر کے بھی قائل نہ ہوں تو یہ  آیت خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے نیک لوگوں کی روح کی بے مثال رشد اور نمو پر دلالت کرتی ہے۔ ان کا مال کتنے گنا بڑھ جاتا ہے اوروہ لوگ خود بھی سخاوت کے ذریعے کمال کے درجات کو بہت تیزی سے طے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے کمال کی راہ میں اٹھائے گئے چھوٹے چھوٹے قدم بڑے بڑے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا نہ صرف بشریت کی ترقی کا باعث بنتا ہے بلکہ انسان کے اخلاقی اور روح کی تکامل کا بھی باعث بنتا ہے۔

تیسرا نکتہ: ایک روایت میں ہے کہ جب بھی امام سجاد علیہ السلام کوئی چیز کسی سائل کو عطا کرتے سائل کے ہاتھوں کو چومتے کچھ لوگوں نے امام سے عمل کی وجہ پوچھی تو امام نے فرمایا:

"لانھا تقع ۔۔۔ العبد" ترجمہ: "اس لیے کہ یہ بخشش جو اُس کو دی گئی ہے اُس کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچے گی"۔([4])

چوتھی آیت: " الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ "([5])

ترجمہ:"جو لوگ اپنے اموال کو راہِ خدا میں رات میں دن میں خاموشی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں ان کے لیے پیش پروردگار اجر بھی ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور حزن"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں انفاق کے باے میں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ اُن کے انفاق کے تین اثرات ہوں گے (وہ لوگ جو اپنے مال کو شب و روز ظاہر اور آشکار انفاق کرتے ہیں۔

1.   اُن کا اجر خدا کے پاس ہے۔

2.   انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔

3.   غمگین نہیں ہوں گے۔

دوسرا نکتہ: خدا میں سخاوت اور انفاق کسی بھی مشکل کسی بھی صورت میں ہو۔ پسندیدہ اور محبوب عمل ہے۔

تیسرا نکتہ: انفاق کرنے والوں کو مستقبل کے لیے کسی قسم کا خوف اور وحشت نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے ان کی آیندہ زندگی کا ذمہ لے رکھا ہے۔

چوتھا نکتہ: اور اپنے مال کا کچھ حصہ راہِ خدا میں دینے انہیں غم نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ خدا کے فضل سے اُنہیں جو کچھ دیا گیا ہے اُس سے بھی بہتر وہ ہے جو اُنھوں نے راہِ خدا میں لیا ہے۔

پانچویں آیت: " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ "([6])

ترجمہ: "تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہِ خدا میں انفاق نہ کرو اور جو کچھ بھی انفاق کرو گے خدا اس سے بالکل باخبر ہے"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: عربی گرائمر میں "برّ" کا مطلب نیک کام کرنا  ہے اور وہ بھی اگر ارادہ اور اختیار سے کیا جائے اور یہ انسان کی روحانیت اور اعلیٰ شخصیت کا نشان ہے۔

دوسرا نکتہ: دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت "برّ" مطلق ذکر کیا گیا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اگر انسان سخاوت اور انفاق نہ کرے تو وہ کبھی بھی نیکو کاری کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔

تیسرا نکتہ: کچھ مفسرین "برّ" سے مراد جنت اور کچھ تقویٰ کچھ اور مفسرین نیک اجر کے معنی میں لیتے ہیں ظاہر یہ ہوتا  ہے کہ "برّ" کا معنی بہت ہی وسیع ہے اور ان تمام معنی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

چھٹی آیت: " الذین یومنونو ۔۔۔ ینفقون"([7])

ترجمہ:

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس  آیت میں انفاق کو غیب پر ایمان لانے اور نماز کے بعد ذکر کیا گیا ہے جو کہ تقویٰ کے اہم رکن ہیں۔

دوسرا نکتہ: ینفقون کو فعل مضارع کی صورت میں لایا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ ہمیشہ انفاق  کرتے ہیں اور یہ اُن کی سخاوت مندی کا نشان ہے جو اِن کی ذات کے اندر ایک بہترین صفت کی طرح اپنی جڑیں بناچکی ہیں۔

تیسرا نکتہ: "ھما رزقناھم" یعنی (جو رزق انہیں دیا گیا ہے) ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سارا مال خدا کی دَین ہے اس لئے خدا کے دیئے ہوئے مال میں سے اُس کے نیاز مند بندوں کو دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔

چوتھا نکتہ: یہ بات واضح ہے کہ انفاق صرف زکوۃ  ہی نہیں بلکہ انفاق کا معنی بہت ہی و سیع ہے اور اس میں ہر قسم کے واجب اور  مستحب صدقات شامل ہیں۔

ساتویں آیت:" وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا" ([8])

ترجمہ:"اور خبردار اپنے ہاتھوں کو گردنوں سے بندھا ہوا قرار دو اور نہ بالکل پھیلا دو کہ آخر میں قابل ملامت اور خالی ہاتھ بیٹھے رہ جاؤ"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: یہ آیت انفاق میں افراط و تفریط سے بچنے اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتی ہے ۔ یہ آیت بخل اور اسراف کی میانہ روی سخاوت جیسی صفت کی تصویر کشی کر رہی ہے۔

دوسرا نکتہ: ا مام صادق علیہ السلام ایک مشہور حدیث میں ایک مثال کے ساتھ اس نکتے کو بیان کرتے ہیں۔

"زمین سے مٹھی بھر خاک اٹھائی اور مٹھی کو سختی سے بند کرلیا یہ بُخل ہے۔ اس کے بعد دوسرے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اِسے ایسے کھولا کہ ساری خاک زمین پر گِر گئی پھر فرمایا یہ اسراف ہے ۔ تیسری مرتبہ مٹھی بھر خا ک اٹھائی اور ہاتھ کی ہتھیلی کو آسمان کی طرف کرکے کھول دیا مٹی کی کچھ مقدار انگلیوں اور ہتھیلی کی اطراف سے نیچے گر گئی اور کچھی ہتھیلی کے اندر ایسے باقی رہ گئی۔ فرمایا یہ میانہ روی ہے اور سخاوت کی حقیقت بھی یہی ہے۔([9])

تیسرا نکتہ: اس آیت میں بخل کو (گردن کے پیچھے ہاتھ باندھنے) اور اسر اف کو (ہاتھ کھولنے) سے تعبیر کیا گیا ہے اور دونوں کو سرزنش کے باعث (ملوماً) اور خالی ہاتھ رہ جانا (محوراً) کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

سخاوت احادیث کی روشنی میں

اسلامی روایات میں جود اور سخاوت کے لیے بے شمار تعبیرات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ان میں سے نمونے کے طور پر کچھ روایات کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "سخاء خلق الاعظم"([10])، "سخاوت خدا  کا ایک بہت ہی عظیم اخلاق ہے"۔

حقیقت میں ہر قسم کی سخاوت خو د خدا کے وجود میں متجلی ہے کیونکہ ہمارے پا س جو کچھ ہے وہ خدا کی طرف سے ہی ہے بڑی بڑی نعمتیں جیسے زمین اور آسمان  اور ہماری زندگی ہمارا وجود سب اُ سی ذات پروردگار کی طرف سے ہی ہے جہاں کہیں سخاوت ہے ا ُس کا سرچشمہ خدا کی سخاوت ہے کیونکہ اگر وہ ہمیں عطا نہ کرتا تو ہم میں عطا کرنے کی صلاحیت نہ ہوتی یہاں تک کہ بخشنا، سخاوت  سب اُس کی دی ہوئی صلاحیتوں اور اوصاف میں سے ہے۔

۲۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اسخاء من ۔۔۔ ما بذل۔ ([11])

"سخاوت انبیاء کے اخلاق میں سے ہے  اور ایمان کا ستون ہے اور   کوئی بھی شخص با ایمان نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ وہ سخی ہو اور کوئی بھی سخی نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ اس کے اندر یقین اور وہ بلند ہمت ہو کیونکہ سخاوت یقین کے نور کی ایک کرن ہے اور وہ جو جانتا ہو کہ اُس نے کس چیز کا ارادہ کیا ہوکہ جو کچھ اُس نے دیا ہے اُس کی نظر میں اِس کی اہمیت کس قدر کم ہے"۔

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعلیٰ صفت ذات پروردگار کے بعد انبیاء کے اندر اُن کے ایمان اور یقین کا نشان ہے۔

حدیث نمبر ۳: امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: تعل باالسخاء ۔۔۔ خلالا۔([12])

"اپنی سخاوت اور پرہیز گاری کو سجاؤ کہ یہ دونوں تمہارا ایمان اور بہترین صفت ہیں"۔

۴۔ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:"السخاء ۔۔۔ النسل([13])

"عقل کے درخت کا پھل سخاوت ہے اور قناعت اس کی پاکیزگی کی دلیل ہے"۔

وہ لوگ جو دوسروں کو عطا کرتے ہوئے بخل کرتے ہیں وہ بہت سا مال اکٹھا کرتے ہیں اور اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں حقیقت میں لوگ عاقل نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے کاندھوں پر صرف بوجھ لادا تھا کہ اس سے نہ تو انھوں نے مادی فائدہ اٹھایا اور نہ ہی روحانی ، کون عقلمند ایسا کام کرے گا۔

حدیث نمبر ۵: ایک اور تعبیر کے ساتھ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: عطوا ۔۔۔ العیوب۔([14])

"اپنے عیوب کو سخاوت سے چھپاؤ کیونکہ سخاوت عیبوں کو چھپا دیتی ہے"۔

امام علیہ السلام کے اس قول کا صادق ہونا تجرہ کے ساتھ بہت آسانی کے ساتھ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے اندر مختلف قسم کے کئی عیب ہیں لیکن سخاوتمند ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں میں اُن کے لیے احترام ہے۔

۶۔ دوسرے الفاظ میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: السخاء ۔۔۔ القلوب۔([15])

"سخاوت گناہوں کو پاک کر دیتی ہے اور دلوں کو سخاوت کرنے والوں کی طرف کھینچتی ہے۔

۷۔ مولی الموحدین علی علیہ السلام سخاوت کا دلوں میں جذابیت پیدا کرنے کے لیے فرماتے ہیں: "ما استجلیت ۔۔۔ حسن الخلق([16])

"کوئی بھی چیز، سخاوت، مہربانی، حسن خلق کی طرح محبت کو جلب نہیں کرتی"۔

۸۔ رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں: "اسلی قریب ۔۔۔ من الجنۃ"([17])

"سخاوت مند خدا کے لوگوں کے اور جنت کے نزدیک ہے"۔

۹۔ امام صادق علیہ السلام کی اور حدیث میں ہے: "شباب سخی ۔۔۔ بخیل([18])

"گناہوں سے آلودہ سخی جوان ایک بوڑھے بخیل عابد سے بہتر ہے"۔

بے شک سخاوت خدائی امداد کا باعث بنتی ہے۔ آخرکار اس نوجوان کے گناہوں کا باعث بنتی ہے لیکن وہ بوڑھا عابد اپنے بخل کی وجہ سے گناہ میں ڈوب جائے گا۔

۱۰۔ اسی موضوع کو نبی ﷺ کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں: "تجافوا عن ۔۔۔ عشر([19])

"سخی انسان کی خطا اور گناہ سے چشم پوشی کرو کیونکہ جب بھی وہ ڈگمگاتا ہے خدا اُس کے ہاتھ کو تھام لیتا ہے"۔

سخاوت کے اثرات

انسان کی شخصی اور اجتماعی زندگی میں سخاوت کے اثرات تجربہ کے ساتھ ثابت ہوچکے ہیں یا احادیث میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر

1.    بہت سی روایات اور روزمرہ کے تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ سخاوت دوست اور دشمن کی محبت کو اپنی طرف جذب کرتی ہے۔ دوستوں کی تعداد میں اضافہ اور دشمنوں کی تعداد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

2.    سخاوت انسان کے عیوب کو چھپا دیتی ہے اور اس طرح انسان کی عزت کا باعث بنتی ہے۔

3.    سخاوت بیک وقت عقل کے درخت کا پھل ہونے کے علاوہ عقل میں اضافہ کا باعث بھی ہے عقل کہتی ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ انسان مشقت کے ساتھ بہت زیادہ مال اور متاع اکٹھا کرے اورپھر اُسے دوسرے کے لیے چھوڑ جائے اور خو د اُس کے ذریعے اپنے لیے ثواب اور نیکی حاصل نہ کرے دوسری طرف سے سخاوت عقلمند  افراد کو ایک انسان کے گرد جمع کرتی ہے اور وہ اس کی عقل، فکر اور دانش میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔

4.    سخاوت معاشرہ کے طبقاتی فاصلہ کو کم کرتی ہے اس طرح یہ طبقاتی فاصلہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرسکتی ہے یا کم کرسکتی ہے ، محروم افراد کے دِلوں میں موجود کینہ کی آگ کو بجھا سکے۔ اور انتقام لینے کی حس کو ان کے اندر کم کرسکے اس طرح اجتماعی روابط کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

5.    سخاوت انسان کے حلیفوں کو زیادہ کرتی ہے۔ اس کی آبرو کی حفاظت کرتی ہے اور اُس کے بدخواہ دشمنوں کو اُس سے دور کرتی ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں: الجود حارس الاعراض۔([20]) "جود اور بخشش انسان کی عزت اور آبرو کی حفاظت کرتی ہے"۔

6.    جود اور سخاوت غیر معمولی اور روحانی فوائد کی حامل ہے اسی لیئے اسے انبیاء کی صفت کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ جیسے کے سابقہ روایات میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ سخاوت یقین کے نور کی شعاع یا کرن ہے۔ حتی ا گر یہ صفت بے ایمان لوگوں کے اندر بھی ہو تو بھی مفید او ر سود مند ہے۔ رسول اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ حاتم طائی کے بیٹے عدی سے فرمایا: دفع عن ۔۔۔ نعنہ۔([21])  "تمہارے باپ سے اُس کی سخاوت کی وجہ سے شدید عذاب کو دور کردیا گیا ہے"۔

اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے حکم دیا کہ ایک  جنگ میں شامل گناہگاروں کے ایک گروہ کو قتل کردیں لیکن ایک کو چھوڑ دیں۔ اُس شخص نے کہا میں نے اور دوسرے لوگوں نے ایک ہی گناہ کیا ہے پھر مجھے اُن لوگوں سے کیوں جدا کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: "خدا نے مجھے وحی فرمائی ہے کہ تم اپنی قوم کے سخی ا نسان ہو اور میں تمہیں قتل نہ کروں"۔

اس شخص نے یہ سنتے ہی اسلام قبول کرلیا اور کلمہ شہادت پڑھ لیا ہاں اُس شخص کی سخاوت نے اُسے جنت میں پہنچا دیا۔

سخاوت کی حدود

دوسری تمام نیک صفات اور نیک کاموں کی طرح سخاوت کی بھی ایک حد اور مقدار ہے اگر اُس حد سے آگے جائیں تو نتیجہ منفی ہوگا۔ سب سے پہلے انسان سے وابستہ کسی بھی فرد کی حیثیت یا آبرو کو نقصان پہنچے۔ دوسرا سخاوت مال حلال کی جائے نہ یہ کہ حرام راستوں سے کمائے گئے مال یا دوسروں پر ظلم و ستم کے ذریعے وہ مال حاصل کیا گیا ہو جیسے کہ بہت  سے ظالم اور جابر حکمرانوں کی سخا وت ، تیسرا یہ کہ یہ سخاوت بیت المال سے نہ کی جائے کیونکہ بیت المال کا حساب کتاب ہوتا اور اس حساب کت اب کی بہت سے رعایت ہونی چاہیے۔

سخاوت کے حصول کے طریقے

سخاوت جیسی فضیلت کے حصول کے دوسرے فضائل کی طرح علمی طریقےبھی ہیں اور عملی بھی۔

علمی طریقے مندرجہ ذیل ہیں:

1.    یہ اخلاقی فضیلت دوسرے تمام فضائل کی طرح فکری تعلیم و تربیت  اور  مشق کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

2.    اس حقیقت کو مدنظر رکھنا کہ یہ مال یہ تمام ثروت خدا کی طرف انسان کو دی گئی ایک امانت ہے اور یہ سب فانی ہے۔ روز قیامت جب کے خالی ہاتھ  ہوں  گے اُس دِن کے لیے آج کی بخشش سخاوت کو خدا کے نزدیک ذخیرہ کرلے۔

3.    سخی اور بخیل انسانوں کی زندگی کا مطالعہ اور مقایسہ کرنا بھی سخاوت کے حصول کے لیے مؤثر ہے کہ کس طرح سخی انسان عزت دار اور بخیل انسان ذلت سے روبرو ہوتا ہے۔

لیکن عملی لحاظ سے:

1.    جس قدر مشق کی جائے گی اُسی قدر نیک فضیلت کے حصولے کے لیئے میدان ہموار ہوگا۔

2.    ماں باپ اور اساتذہ کی تربیت بہت ہی مؤثر ہے اگر وہ عمر کی ابتدا سی ہی اپنے بچوں کو جود اور سخاوت کی عادت ڈالیں گے تو یہ نیک عادت اُن کے وجود کے اندر اپنی جڑ بنالے گی اور بڑے ہوتے ہی اُن کی زندگی کا حصہ بن جائےگی۔

صاحب بن عباد کے زندگی نامہ میں ہے کہ بچپن میں جب دینی درس دیکھنے کے لیے مسجد جانے لگتے تو اُن کی والدہ اُنہیں ایک درہم اور ایک دینار دیتی اور کہتی اسے پہلے کسی فقیر کو دینا جو تمہیں راستے میں نظر آئے۔ آہستہ آہستہ اُن کے اندر اس خصلت نے جڑ بنالی یہاں تک کہ وہ جوانی میں اس قدر سخاوت کرتے کہ سب اُنہیں آفرین کہتے۔ اگر نماز ظہر کے بعد کوئی رمضان میں اُن کے گھر آتا تو اُن کی سخاوت مانع آجاتی کہ وہ شخص افطار کے بغیر اُن کے گھر سے نہ جائے۔ ہر روز تقریباً ہزار لوگ اُن کے دستر خوان پر افطار کرتے اور رمضان کے مہینے میں اُن کی سخاوت پورے سال کے برابر ہوتی۔

اُن کی زندگی کے واقعات م یں سے نقل کیا گیا ہے:

ایک دن اُن کے لیے شربت لایا گیا اُن کے اقارب  میں سے کسی کو شک ہوگیا کہ یہ شربت زہر آ لود ہے اُنھوں نے کہا کہ نوش نہ فرمائیں کیونکہ یہ شربت زہر آ لود ہے۔ وہ خادم جو اُس جام کو لیکر آیا تھا اُسی طرح اپنی جگہ پر کھڑا تھا۔ صاحب بن عباد نے اُس شخص سے کہا کہ کس دلیل کی بناء پر تم اس شربت کے زہر آلود ہونے کا دعویٰ کر رہے ہو؟ اُس نے کہا کہ سب سے بہترین حل یہ ہے کہ اس نے جام کو لاکر تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اِسی کا امتحان ہونا چاہیے۔ اسی جام میں سے شربت کو پیئے۔ صاحب بن عباد نے کہا کہ میں اس کام پر راضی نہیں ہوں اُس شخص نے کہا ایک پالتو مرغ کے ذریعے امتحان کرکے دیکھو۔

صاحب نے کہا کہ ایک حیوان کو اس طرح سے مارنا درست نہیں ہے۔ اس کے بعد حکم دیا کہ اس جام کو الٹا دیں اور شربت گرا دیں اور خادم کو حکم دیا کہ آج کے بعد میرے گھر قدم نہ رکھنا لیکن ساتھ ہی حکم دیا کہ اُس کی  تنخواہ اُس کو دے دی جائے۔

اس کے بعد کہا کبھی یقین کو شک کے ذریعے ختم نہیں کرنا چاہییے کسی کے حقوق یا تنخواہ  کاٹ لینا ہے۔

مقدمہ

اس درس میں جود و سخاوت کا مفہوم اور آیات قرآنی میں اس کا ذکر احادیث اور روایات کی رو سے جود اور سخاوت کو بیان کیا گیا ہے، سخاوت کے اثرات، حدود اور حصول کے طریقے بیان کئے گئے ہیں۔

خلاصہ

1.    جود اور  سخاوت بخشش اور عطا کرنا ہے لیکن جود اور سخاوت سے افضل ہے۔

2.    قرآن میں سخاوت کا تاریخ سب سے بڑا نمونہ انصار کا مکہ کے مہاجروں کا استقبال کرنا ہے۔

3.    اپنی ضرورتوں کے باوجود دوسروں کی مدد کرنا سورہ انسان میں آیات کے مطابق اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوا ہے۔

4.    خدا کی راہ میں سخاوت سائل سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتی ہے۔

5.    آیات قرآنی کے مطابق انفاق کے تین اثرات ہیں۔

6.    سخاوتمند "مما رزقناھم" پر ایمان رکھتا ہے۔ اسی لیے بخل سے کام نہیں لیتا۔

7.    سخاوت میں افراط و  تفریط سے پرہیز کرنا چاہیے۔

8.    احادیث میں سخاوت کی برکات اور اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔

9.    سخاوت کی کچھ حدود معین کی گئی ہیں۔

10.           سخاوت کے حصول کے علمی طریقے بھی ہیں اور عملی بھی۔

سوالات

# جود سے مراد ؟

·       سائل کے سوال پر اُسے کچھ عطا کرنا

·       سائل کے سوال پر اپنا اور حق احسان رکھنا

·       سائل کو خدا کا بندہ سمجھنا اور مال کو بھی خدا سمجھنا

·       * سائل اور مال دونوں کے ہیں سائل کے سوال سے پہلے اُسے عطا کرنا

# سورہ انسان کی آیات کا شان نزول

·       سخاوت مند لوگ

·       * اہل بیت علیہم السلام

·       مسلمان

·       مومن

# لانھاتقع ۔۔۔ ید العبد، روایت کے مطابق

·       سائل بندہ خدا ہے

·       مال و سائل خدا کی مخلوق ہے

·       سخاوت کرنے والوں کو کوئی خوف نہ ہوگا

·       * بخشش سائل سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتی ہے

# انفاق کے اثرات

·       اجر خدا کے پاس ہے

·       انفاق کرنے والوں کو کچھ خوف نہ ہوگا

·       وہ غمگین نہیں ہوں گے

·       * تمام موارد

# برّ" سے مراد

·       * نیک کام جو ارادہ اور اختیار سے ہوں

·       سخاوت جو سائل کے سوال پر کی جائے

·       بناء سوال کے کسی کی مدد کرنا

·       بے خبری میں کسی کی مدد کرنا

# انفاق یعنی

·       زکوۃ اور صدقات

·       خمس و زکوۃ

·       * زکوۃ خمس واجب اور مستحب صدقات

·       صدقات و خمس

# سخی جوان ایک بوڑھے ۔۔۔ سے بہتر ہے

·       * بخیل عابد سے

·       عالم عابد سے

·       بخیل عالم سے

·       بے عمل عالم

#سخاوت کے حصول کے علمی طریقے

·       تلقین

·       تربیت

·       ماحول

·       * فکری تعلیم و  تربیت اور مشق

# سخاوت کے حصول کے علمی طریقے

·       اساتذہ کی تربیت اور ماحول

·       کسی کی پیروی کرنے سے

·       سخاوت کے اثرات

·       * والدین اور اساتذہ کی عملی تربیت

#سخاوت طبقاتی فاصلہ کو

·       کم کرتی ہے اور اُن کے مسائل کو بڑھا دیتی ہے

·       * کم کرتی ہے اور مسائل کو حل کرتی ہے

·       زیادہ  کر دیتی ہے

·       کم کرتی ہے دلوں میں نفرت بڑھا دیتی ہے

 

 



[1] ۔سورہ حشر، آیت ۹۔

[2] ۔سورہ انسان، آیت ۸ و ۹۔

[3] ۔سورہ بقرہ، آیت ۲۶۱۔

[4] ۔بحار الانوار، ج۹۳، ص ۱۲۹۔

[5] ۔سورہ بقرہ، آیت ۲۷۴۔

[6] ۔سورہ آل عمران، آیت ۹۲۔

[7] ۔سورہ بقرہ، آیت ۹۲۔

[8] ۔سورہ اسراء، آیت ۲۹۔

[9] ۔تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص ۱۵۸۔

[10] ۔کنز الاعمال، ج۶، ص ۳۳۷، حدیث ۱۵۹۲۶۔

[11] ۔بحار الانوار، ج۶۸، ص ۳۵۵، حدیث ۱۷۔

[12] ۔غرر الحکم، حدیث ۴۵۱۱۔

[13] ۔غرر الحکم، حدیث ۲۱۴۵۔

[14] ۔غرر الحکم، حدیث ۶۴۴۰۔

[15] ۔غرر الحکم، حدیث ۱۷۳۸۔

[16] ۔غرر الحکم، حدیث ۹۵۶۱۔

[17] ۔بحار الانوار، ج۷، ص ۳۰۸۔

[18] ۔بحار الانوار، ج۷، ص ۳۰۸۔

[19] ۔ کنز الاعمال ۶۰۷، ص ۳۹۲، حدیث ۱۶۲۱۲۔

[20] ۔غرر الحکم، حدیث ۳۳۳۔

[21] ۔بحار الانوار، ج۶۸، ص ۳۵۴۔

حجت مشن

۲۲ بهمن انقلاب اسلامي ايران جي سالگره انقلاب اسلامي ايران جي سالگره تي تمام مؤمنن کي حجت مشن پاران مبارڪابد عرض ڪيون ٿا الله سائين هن اسلامي انقلاب کي ترقي عنايت فرمائي 

Template Design:Dima Group

Back to Top