عفو

درس کے تعلیمی مقاصد

الف: قرآن کی نظر میں عفو کی اہمیت سے آشنائی

ب: روایات کی نظر میں عفو کی اہمیت سے تعارف

ج: عفو کے مقام سے آشنائی

د: عفو کے اجتماعی اور معنوی اثرات

ھ: سخاوت کی حدود سے آشنائی اور اس کے حصول کے راستے

عفو

فضائل اخلاقی میں سے ایک بہت بڑی فضیلت کے جس تک پہنچنا آسان نہیں ہے صاحب قدرت ہونے کے باوجود معاف کردینا اور انتقام لینے سے صرف نظر کرنا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دلوں میں کینہ چھپائے رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ جب وہ دشمن پر غالب ہوں گے تو کئی  گنا زیادہ انتقام لیں گے نہ صرف برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں بلکہ ایک برائی کے جواب میں کتنی ہی بار اُس کے ساتھ برائی کریں گے اور سب سے بدتر یہ ہے کہ اپنی اس رذیلہ صفت پر بہت زیادہ افتخار کرتے ہیں۔ لیکن انبیاء کرام کی سیرت اس کے برعکس تھی جب وہ فتح پاتے تو جہاں تک ممکن ہوتا ماضی کی غلطیوں کو عفو اور معافی کے پانی کے ساتھ دھو دیتے اور اس طرح اپنے بدترین دشمنوں کو عزیز دوست بنالیتے تھے۔

لیکن یقیناً یہ کام اُن لوگوں کا ہے جو ایمان اور تقویٰ کے ساتھ پروان چڑھے ہوں اور انہیں اپنے نفس پر قابو ہو۔ یہ اُن لوگوں کا کام ہے جو کہ شائستہ قابل ا فتخار اور با فضیلت ہوں لیکن درندہ صفت انسان صرف انتقام کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں پہچانتا اور اسی پر فخر کرتا ہے۔

آیات اور روایات

عفو کی فضیلت اور انتقامی میں روح کے خاتمے اور پیغمبر ﷺ اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت جیسے موضوع سے مزین ہے۔

مثال کے طور پر فتح مکہ کے موقع پر پیغمبر ﷺ کا اپنے سخت اور خون کے پیاسے دشمنوں کو معاف کردینا ہے۔

اسی اشا رے کے ساتھ ہی قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عفو اور انتقام کی آیات کی بررسی کرتے ہیں۔

پہلی آیات:" وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ "([1])

ترجمہ: "اور ہر برائی کا بدلہ اس کے جیسا ہوتا ہے پھر جو معاف کردے اور اصلاح کردے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ یقیناً ظالموں کو دوست نہیں رکھتا"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں خدا نے سب سے پہلے مجرم کو اُس کے جرم جیسی سزا دینے کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ کہ یہ مومنین کا حق ہے (تاکہ دشمن اور مجرم اپنے آپ کو امان میں نہ سمجھیں) اور اس کے معاف کرنے اور انتقام کو ترک کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے:

ترجمہ: "ہر برائی کا بدلہ اس کے جیسا ہوتا ہے پھر جو معاف کردے اور اصلاح کردے ا س کا اجر اللہ کے ذمہ ہے وہ یقیناً ظالموں کو دوست نہیں رکھتا"۔

دوسرا نکتہ: سورہ شو ریٰ اُن سورتوں میں سے ہے جو ساری کی ساری مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور اُس دوران مومنین بے حساب دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے قرآن اس سورہ کی ۳۹ آیت میں حکم دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے مت جھکو اور جب تم پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہو تو دوسروں سے مدد مانگو اور ایک دوسرے کی مدد کرنے میں جلدی کرو اور پھر اس سورہ کی چالیسویں آیت میں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دوست ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوں اور تم انتقام لینے پر اُتر  آؤ اور حد سے گزر جاؤ اور تم لوگ خود بھی ظالموں کی فہرست میں آجاؤ بلکہ جہاں معاف کرنے کا کوئی منفی نتیجہ نہ ہو وہاں بہتر ہے کہ معاف کرو اور اصلاح کرو۔

تیسرا نکتہ: معاف کرنے کے حکم کے بعد اصلاح کا حکم دیا گیا ہے اور یہاں اصلاح سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔

کچھ خدا اور اپنے درمیان اصلاح کرنا بیان کرتے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ ظالم اور مظلوم کے درمیان اصلاح کرنا ہے تاکہ پھر یہی مسئلہ تکرار نہ ہو۔

اور کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ اپنی اصلاح کرنا ہے یعنی خود کو انتقام غضب اور غصہ سے اصلاح کرنا ہے۔

کچھ کا کہنا ہے یہ قصاص ترک کرنا ہے۔

چوتھا نکتہ: آیت بہت ہی روشن طریقے سے اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ عفو اور اُس کے بعد اصلاح اس لیے حکم کی گئی ہے تاکہ کینہ کو اُس کی جڑ سمت اکھاڑا جاسکے۔

پانچواں نکتہ: تعبیر (ماجرہ علی اللہ) (اس کا اجر خدا کے پاس ہے)

کسی قسم کا اجر معین نہیں کیا گیا یعنی بہشت تک کو مشخص نہیں  کیا گیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کا اجر اس قدر عظیم ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

دوسری آیت:"وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ"([2])

ترجمہ: "اور خبردار تم میں کوئی شخص بھی جسے خدا نے فضل اور و سعت عطا کی ہے یہ قسم نہ کھالے کہ قرابتداروں اور مسکینوں اور راہِ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے سا تھ کوئی سلوک نہ کرے گا۔ ہر ایک کو معاف کرنا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے اور اللہ بے شک بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔"

پہلا نکتہ: یہ آیت واقعہ افک کے حوالے سے ہے یعنی منافقین میں سے کچھ لوگوں نے پیغمبر ﷺ کی ازواج میں سے ایک زوجہ پر تہمت لگائی اس طریقے سے وہ پیغمبر ﷺ کی شخصیت پر انگلی اُٹھانا چاہتے تھے یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عفو اور بخشش سب کے لیے مطلوب ہے یہاں تک اس میں کے گناہ گار اور آلودہ افراد بھی شامل ہیں کیونکہ یہ آیت واقعہ ا فک کے بعد اس وقت نازل ہوئی  کہ جب اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے قسم کھائی کہ وہ اُن لوگوں کی مالی مدد نہیں کریں گے جو اس واقعے میں شامل تھے۔ یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں ا س شدید ردّعمل اور غصّے سے باز رہنے اور معارف کردینے کا حکم دیا گیا۔

دوسرا نکتہ: واقعہ افک ایک بہت ہی خطرناک واقعہ تھا جس میں اسلام اور پیغمبر ﷺ کو نشانہ بنایا گیا تھا کچھ منافق اس کی بنیاد رکھنے والے تھے اور کچھ غافل مومن بھی ا ن کے دھوکے میں آگئے ا س آیت کے ذریعے خدا نے فریب کھانے والے مومنین کے لیے معافی کا حکم دیا۔

تیسرا نکتہ: عفو اور صفح میں کیا فرق ہے۔ راغب، مفردات میں کہتا ہے عفو معاف کرنا ہے اور صفح ملامت کو  ترک کرنا ہے۔

جو کہ عفو سے بالاتر مرحلہ ہے کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص عفو تو کردے لیکن سرزنش اور ملامت کرنے سے باز نہ آئے۔ لیکن صفح کے معنی جو کہ برعکس رویہ ہے کی طرف اگر توجہ کی جائے تو شاید یہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ نہ صرف ان خطاکاروں کی خطا کو معاف کردیا جائے بلکہ مکمل طور پر فراموش کردے نہ صرف ملامت نہ کرے بلکہ ان کے آپس کے تعلقات پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔

چوتھا نکتہ: یہ نکتہ بھی دقت کے قابل ہے کہ افک کے ماجراء میں ملوث افراد کے خلاف جن لوگوں ن ے مالی امداد نہ کرنے کی قسم کھائی قرآن کریم نے کہا کہ قسم نہ کھائیں۔ یعنی ایسے کاموں کے لیے آپ لوگوں کی قسم بے اثر ہے کیونکہ نیک کام کے لیے قسم قابل قبول نہیں۔

تیسری آیت :" خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ"([3])

 ترجمہ:"آپ عفو کا راستہ اختیار کریں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی کریں"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں پیغمبر ﷺ کو معاف کیا گیا ہے اس میں تین اہم اخلاقی دستور بیان کئے گئے ہیں۔ عفو اور لوگوں کے ساتھ مہربانی کرنا، نیکی کا حکم اور جاہلوں سے رُخ موڑ لینا۔

دوسرا نکتہ:یہ تینوں حکم خدا کی جانب رسول اللہ ﷺ کو ایک رہبر کے عنوان سے دیئے گئے ہیں یہ احکام عفو اور بخشش کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں پہلے حکم میں عفو اور درگذشت کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرا حکم اس بات کا اشارہ کرتا ہے  کہ لوگوں سے اُن کی قدرت سے زیادہ توقع مت رکھو اور تیسرے دستور میں جاہلوں کی مزاحمت سے بے اعتنائی برتنے کی نصیحت کی گئی ہے اس میں بھی ایک قسم کا عفو اور درگذشت شامل ہے۔

تیسرا نکتہ: سچے رہبر اور حق کے راہیوں کے راستے جو کہ خدا کی طرف اور معاشرہ کی اصلاح کا راستہ ہے اس راہ میں ہمیشہ جاہل متعصب اور مغرور لوگوں کا نادیدہ اور ان کے کاموں کو نظر انداز کرنا ہے اور تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ لوگوں کو بیدار اور حسد اور غصے کی آگ کو خاموش کرنے کے لیے یہ بہترین  راستہ ہے۔

چوتھا نکتہ: حدیث میں آیا ہے کہ جب مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو پیغمبر ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا کہ اس آیت سے مراد کیا ہے؟ اور کون سا کام انجام دیا جائے؟ جبرائیل نے عرض کیا مجھے نہیں معلوم، خدا سے سوال کرتا ہوں جبرائیل دوسری دفعہ گئے اور عرض کیا:

ان اللہ ۔۔۔ قطعک([4])

ترجمہ: "خدا آپ کو حکم دیتا ہے کہ جس نے آپ پر ستم کیا ہے اُسے معاف کر دیں اور جس نے آپ کو محروم کیا ہے اُسے نوازیں اور جو آپ سے الگ ہوگیا ہے اُس کے ساتھ محبت کا پیوند جوڑ دیں۔

چوتھی آیت: " وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ "([5])

ترجمہ: "اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو تو اس قدر جس قدر انھوں نے تمہارے ساتھ سختی کی تھی اور اگر صبر کرو تو صبر بہرحال صبر  کرنے والوں کے لیے بہترین ہے"۔

آیت کے تفسیری نکات:

پہلا نکتہ: روایات میں ہے کہ یہ جنگ اُحد میں نازل ہوئی ہے جب رسول اللہ کی نظر حضرت حمزہ علیہ السلام کے بدن مبارک پر پڑی جو کہ خاک اور خون میں لت تھی اور سنگدل دشمن نے ان کے پہلو کو چیر کر جگر (یا دل) نکال لیا تھا اور اُن کے ناک ، کان کو کاٹ لیا تھا پیغمبر ﷺ بہت افسردہ اور ناراحت ہوگئے۔ خدا کی حمد و ثناء کے بعد خدا کی درگاہ میں شکایت کی اور کہا:

"اگر میں ان پر غلبہ پا گیا تو ان کے ساتھ "مثلہ" کروں گا (روایت کے مطابق اُن کے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کروں گا)

مندرجہ بالا آیت نا زل ہوئی اور سزا میں تجاوز نہ کرنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو صبر اور عفو کی دعوت دی پیغمبر ﷺ نے بلا فاصلہ عرض کیا (اصبر اصبر ۔۔۔ خدایا میں صبر کروں گا، صبر کروں گا) ([6])

دوسرا نکتہ: دلچسپ بات یہ ہےکہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے:

" وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلا بِاللَّهِ "([7])

ترجمہ: "اور آپ صبر ہی کریں کہ آپ کا صبر بھی اللہ ہی کی مدد سے ہوگا اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں اور ان کی مکاریوں کی وجہ سے تنگدلی کا بھی شکار نہ ہوں۔

اس آیت میں اُن دردناک لحظات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سنگدل نادان دشمن کے ظلم میں انسان کا سارا وجود جلنے لگتا ہے۔ ا یسے موقع پر صبر اور درگذشت ایک بہت ہی مشکل کام ہے جسے خدا کی مدد کے بغیر انجام دینا ناممکن ہے۔

تیسرا نکتہ: البتہ پہلی آیت میں مَثل یعنی جیسے ظلم کیا ہو اُس کا ویسا بدلہ صرف اُسی صورت میں ہے جب قاتل نے ارادہ کے ساتھ قتل کیا ہو لیکن "مُثلہ" غیر ا نسانی فعل ہے۔ ویسا ہی سلوک یا بدلہ لینا جائز نہیں۔ روایات میں اس موضوع کو نہایت ہی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے یہاں تک کے درندہ صفت کتے کے سا تھ بھی "مُثلہ" نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر مندرجہ بالا روایت کے ذریعے "مُثلہ" کو جائز سمجھا جائے تو واضح ترین روایات کی تفسیر کے ذریعے یہاں مراد قتل ہے نہ "مُثلہ" کرنا۔

چوتھا نکتہ: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دشمنوں سے کئی گنا زیادہ بدلہ لینے اور "مُثلہ" کرنے کا مسئلہ مسلمانوں نے مطرح کیا تھا نہ کہ پیغمبر ﷺ کی طرف سے۔ اس آیت میں مخاطب عام ہیں یعنی یہ ا رادہ تمام مسلمان کی طرف سے کیا گیا تھا۔

پانچویں آیت: "ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ"([8])

ترجمہ:اور آپ برائی کو  اچھائی کے ذریعہ رفع کیجئے کہ ہم اُن کی باتوں کو خوب جانتے ہیں"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اس آیت میں مخاطب پیغمبر ﷺ ہیں اور یہاں حکم عفو اور درگذشت سے بڑھ کر دیا گیا ہے کے بدی کو بہتر طریقے سے دور کرو اور بدی کا جواب نیکی سے دو۔

دوسرا نکتہ: جو کچھ وہ لوگ کہتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں ہم اُس سے آگاہ تر ہیں۔

تیسرا نکتہ: اس معنی کو دوسرے الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے کہ فرمایا ہے "بدی کو نیکی سے دور کرو تاکہ بدترین دشمن گرم جوش اور نزدیکی دوستوں میں تبدیل ہوجائیں" اور یہ اس بات کا نشان ہے کہ عفو اور درگذشت کے ثمرات میں سے سب سے اہم دشمنی کا دوستی میں بدلنا ہے۔

چوتھا نکتہ: سورہ رعد کی ۲۲ آیت میں جب اولی الباب کی صفات بیان کی گئی تو فرمایا کہ ان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ حسنات (نیکیاں) سیئات (برائیوں) کو ختم کردیتی  ہے (وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ)اس تفسیر یہ نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ شاید اشارہ کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگ اپنی خطاؤں اور گناہوں کو نیک اعمال اور نیکیوں کے ذریعے تلافی کرتے ہیں۔ اور اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ دوسرے کی بدی کا جواب بدی سے نہیں دیتے بلکہ بدی کی نیکی کے ساتھ تلافی کرتے ہیں تاکہ خطا کار اور گناہ گار لوگ اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ ہوں اور اپنے فعل پر نظر ثانی کریں۔

پانچواں نکتہ: ان تینوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر ﷺ (اور ان کی  حقیقی پیروکار گزر چکے ہیں اور جو آج بھی موجود ہیں) کا وظیفہ ہے کہ عفو اور درگذشت کے مرحلے سے بھی آگے بڑھیں اور بدی کا جواب نیکی سے دیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے اگلی آیت میں فرمایا کہ اس مرحلے تک صابر ارادے او ر با ایمان اور تقویٰ سے بہرہ مند افراد کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ " وما یلقاہا ۔۔۔ عظیم

چھٹی آیت: " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأنْثَى بِالأنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ "([9])

ترجمہ:"ایمان والوں! تمہارے اوپر مقتولین کے بارے میں قصاص لکھ دیا گیا ہے آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ اب اگر کسی کو مقتول کے وارث کی طرف سے معافی مل جائے تو نیکی کا اتباع کرے اور احسان کے ساتھ اس کے حق کو ادا کردے۔ یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے حق میں تخفیف اور رحمت ہے لیکن اب جو شخص زیادتی کرے گا اس کے لیے دردناک عذاب بھی ہے"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: قصاص جو کہ اسلامی اجتماعی اہم احکام میں ہے اور انسانی خون کی حفاظت کا ضامن بھی ہے قرآن کریم اس حکم کو معاشرے کے لیے مایہ حیات شمار کرتا ہے لیکن اس کے باوجود عفو اور درگذشت کو اس سے بھی برتر سمجھتا ہے۔

دوسرا نکتہ: اس کے بعد فرماتا ہے (اگر کوئی اپنے دینی بھائی کی طرف سے معاف کیا گیا ہو (قصاص کو خون بھا میں تبدیل کیا گیا ہو) اُسے چاہیے کہ احسن طریقے (خون بھا ادا کرنے کے لیے) سے اطاعت کرے اور قاتل کو چاہیے کہ نیکی کے ساتھ دیت ادا کرے یہ تمہارے خدا کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔

تیسرا نکتہ: اور آیت کے آخر میں اُن لوگوں کو خبردار کیا ہے جو قصاص کو دیت میں قبول کرنے کے بعد بھی اپنے غصے اور انتقام پر قائم رہتے ہوئے قادر ہوتے ہی قاتل کو قتل کر دیتے ہیں۔

اور قرآن فرماتا ہے:

ترجمہ: "جو شخص زیادتی کرے گا ا ُس کے لیے دردناک عذاب بھی ہے"۔

کیونکہ عفو کرنے کے بعد یا قصاص کے خونبھا میں تبدیل ہونے کے بعد واپسی کے راستے مکمل طور پر بند ہوجاتے ہیں اور قصاص کا حکم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے اور قاتل سے دوبارہ انتقام لینا ایک اور قتل شما ر کیا جائے گا۔

جو کہ ہر لحاظ سے مقدمے کے قابل ہے۔

چوتھا نکتہ: یہ آیت قاتلوں کو خوف اور امید کے درمیان رکھے ہوئے ہے ایک طرف تو قصاص کا حکم ہے کہ کوئی جرائت نہ کرے کہ دوسرے کا خون بہائے اور دوسری طرف سے عفو اور درگذشت کے ذریعے وحشیانہ اور خطرناک انتقام کے روکے ہوئے ہے اور اس اہم اجتماعی مسئلہ کی یہ حکمت اور تدبیر کی انتہا ہے۔

پانچواں نکتہ: "برادر" کی تعبیر  سے یہ علم ہوتا ہے اگر مسلمانوں میں قتل و غارت بھی ہوجائے تو بھی دینی بھائی ہونے کا رابطہ منقطع نہیں ہوتا ا س تعبیر کے ذریعے ا ولیاء میں محبت اور دوستی کی حس کو اُبھارا گیا ہے۔ (یہ مضمون ابن عباس کی ایک روایت سے نقل کیا گیا ہے)۔

چھٹا نکتہ(ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ قصاص پر عفو اور درگذشت کو ترجیح دی گئی ہے۔

ساتویں آیت: " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ "([10])

ترجمہ:"ایمان والوں! تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں لہذا ان سے ہوشیار رہو اگر انہیں معاف کردو اور انہیں بخش دو تو اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے"۔

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: یہ آیت گھریلوں اختلافات اور کشمکش کے حوالے سے تمام مومنین کو مخاطب کر رہی ہے، فرمایا گیا ہے: "تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہو"۔

دوسرا نکتہ: یہ دشمنیاں ہوسکتی ہیں مختلف طریقے سے کی جائیں معنوی لحاظ سے جیسے کے پیغمبر کے دور میں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے روکنے یا اموال میں سے کچھ مال کو نیک کاموں میں صرف یا وقف کرنے سے روکنا اور مادی لحاظ سے جیسے کہ کچھ نا اہل اولاد اور لالچی ازواج جو اپنے والد یا شوہر کی راہ میں مزاحمت ایجاد کریں۔ لیکن آیت کے ذیل میں کہا گیا ہے کہ اگر عفو کریں اور چشم پوشی کریں اور گنہگار کو معاف کردے تو (خدا آپ کو معاف کردے گا) کیونکہ خدا نہایت ہی معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔

تیسرا نکتہ:بے شک اگر گھر سے عفو اور درگذشت کو اٹھا لیا جائے اور ہر کوئی اپنی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سے انتقام لینے پر اُتر آئے تو گھر کا ماحول جہنم میں تبدیل ہوجائے گا او ر اس میں کسی کو بھی امان نہیں ہوگی۔ اور بہت جلد گھر ختم ہوجائیں گے۔

چوتھا نکتہ:دلچسپ یہ کہ خداوند اس آیت میں پہلے تو صراحت کے ساتھ عفو کا حکم دیتا ہے اور پھر صفح کا حکم دیتا ہے اور آیت کے ذیل میں غُفران کا حکم دیتا ہے چونکہ خدا نے فرمایا:

"کیا تمہیں پسند نہیں کہ خدا تمہیں معاف کردے؟ یعنی تم لوگ بھی معاف کرو تاکہ خدا کی مغفرت میں تم لوگ بھی شامل ہو جاؤ۔"

پانچواں نکتہ: عفو، صفح او ر غُفران میں یہ فرق ہے کہ عفو ابتدائی مرحلہ ہے اور ا س سے مراد درگذشت اور انتقام  کو ترک کرنا ہے اور ہر قسم کے عکس العمل کو ترک کرنا ہے۔

اور صفح کے معنی نادیدہ لینا اور نظر انداز کرنا اور فراموش کرنا ہے یہ دوسرا مرحلہ ہے اور غفران کے معنی گناہ اور خطا کے آثار کو چھپانا ہے کہ لوگ بھی اُسے بھول جائیں اور یہ آخری مرحلہ ہے باایمان لوگوں  کا برتر مقام دوسروں کی خطا اور گناہ کے وقت غفران سے کام لینا ہے۔

آٹھویں آیت: "ان تبدوا ۔۔۔ قدیرا"([11])

ترجمہ:""

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ:یہ آیت عفو اور درگذشت کو باقی نیک اعمال کے ساتھ قرار دیتی ہے اور ان کے مقابلے میں خدا کے عفو کا وعدہ دیتی ہے۔

دوسرا نکتہ: انسان کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ قادر ہوتے ہی انتقام لینا  قابل فخر ہے قابل افتخار یہ ہے کہ اس طرح کے حالات میں بھی انسان اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھتا ہو اور جہاں تک عفو اور درگذشت سے غلط فائدہ نہ اُٹھایا جا رہا ہو عفو اور درگذشت سے کام لے۔

نویں آیت: "و اصبر علی ۔۔۔ جمیلا" ([12])

آیت کے تفسیری نکات

پہلا نکتہ: اگرچہ اس آیت نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن یہاں مقصود تمام مسلمان ہیں۔ آیت حکم دیتی ہے کہ جو کچھ دشمن کہتے ہیں اُن کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیں اور شائستہ طریقے سے اُن سے کنارہ کشی کریں۔

دوسرا نکتہ: پیغمبر ﷺ کے مشرک اور سرسخت دشمنوں کا نامردانہ حربہ پیغمبر ﷺ کو دشنام دینا، ہتک اور توہین اور نامناسب قسم کی نسبتیں دینا تھا جو آپ کے دل کو سخت آزار پہنچاتی تھیں لیکن اس کے باوجود خدا نے انہیں حکم دیا کہ ان کے مقابلے میں صبر اور تحمل سے کام لیں اور انہیں اَن دیکھا کریں اور ہجر جمیل اپنائیں۔

تیسرا نکتہ: ہجر جمیل (شائستہ روی) سے مراد ہجران جو کہ محبت، حسن خلق، اور دل سوزی اور حق کی جانب دعوت پر مشتمل ہو سر سخت اور نادان لوگوں کے مقابلے میں یہ ایک تربیتی حربہ ہے اگر ایسے لوگں کا مقابلے کریں گے تو اپنی  نادانی اور زیادہ ڈھٹائی کے ساتھ ڈٹے رہیں گے اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ ہر قسم کی ہتک اور بدکلامی کے باوجود بے اعتنائی برتیں۔

چوتھا نکتہ: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حکم، جہاد کے حکم سے پہلے نازل ہوا تھا اور جہاد کا حکم آتے ہی یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ درحالا ایسا نہیں ہے کیونکہ جہاد کی اپنی جگہ ہے اور ہجر جمیل کی اپنی جگہ ہے۔

پانچواں نکتہ: اس آیت میں عفو اور درگذشت کا حکم ایسے لوگوں کے لیے ہے جن کو زبان کی کوئی قید و بند نہیں اور ایسے لوگ جہالت اور نادانی کے اثر سے کسی قسم کے پسندیدہ اور ناپسند کلام کو زبان پر لانے سے کراہت نہیں رکھتے کیونکہ ہجر جمیل عفو کے بغیر ممکن نہیں۔

چھٹا نکتہ: مرحوم طبرسی کے بقول یہ آیت تمام اسلامی مبلغین کے لیے ایک پیغام ہے کہ جاہل اور مغرور اور متعصب نادان لوگوں کے رویہ سے پریشان نہ ہوں اور اپنی مستقل مزاجی کو ختم نہ ہونے دیں اور حسن اخلاق اور مہربانی کو اپنا ہتھیار بنالیں۔

عفو اسلامی روایات کی نظر میں

عفو کی فضیلت اور انتقام لینے کا مسئلہ اسلامی روایات میں بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے اس موضوع کے متعلق  ہلا دینے والی تعبیرات استعمال کی گئی ہیں کہ جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا: "اذا کان یوم ۔۔۔ بغیر حساب"([13])

ترجمہ: "جب قیامت کا دن ہوگا منادی ندا دے گا جس کسی کا اجر خدا کے ذمے ہے جنت میں داخل ہوجائے۔ کہا جائے گا کن لوگوں کا اجر خدا کے ذمے ہے؟ جواب میں کہیں گے: جنہوں نے لوگوں کو معاف کیا وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں"۔

۲۔ آپ نے ایک خطبہ میں فرمایا: "الا اخبرکم ۔۔۔ من حرمک "([14])

"کیا آپ لوگوں کو بتاؤں کے دنیا اور آخرت میں بہترین اخلاق کون سا ہے؟ جس نے تم پر ستم کیا ہو اسے معاف کرنا اور جو شخص تم سے دور ہے اُس سے پیوند رکھنا جس شخص نے تمہارے ساتھ بدی کی ہو اس کے ساتھ نیکی کرنا اور جس شخص نے تمہیں محروم کیا ہو اُسے کچھ بخش دنیا عطا کرنا"۔

اس حدیث  میں عفو کے عالی ترین مراتب جو کہ بدی کا جواب نیکی سے دینا ہے کو مختلف پہلوؤں سے بیان کیا گیا ہے اور یہ انبیاء اولیاء کرام اور سچوں کی فلاح ہے۔

۳۔ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: "العفو تاج المکارم" عفو اور درگذشت تمام اخلاقی فضائل کا تاج ہے۔([15])

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تاج عظمت اور قدرت کا نشان ہے اور زینت کا بھی۔ اور انسانی جسم کے سب سے بالائی حصے پر سجایا جاتا ہے یہ تعبیر اس بات کا نشان ہے کہ عفو اور درگذشت تمام اخلاقی فضائل میں ایک خاص مقام کی حامل ہے۔

۴۔ ایک او ر حدیث میں مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "شیئان ۔۔۔ و العد۔ شرح"([16])

"دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے ثواب کا وزن نہیں کیا جاسکتا  جو کہ عفو اور عدالت ہیں"۔

عدالت کے ساتھ عفو کا ذکر نہ صرف عفو کی اہمیت کو بیان کرتا ہے بلکہ ان دونوں کے مساوی ہونے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ عدالت حق ہے اور معاشرے میں نظم و ضبط کا باعث ہے لیکن عفو ایک فضیلت ہے جو کہ دلوں  سے کینہ کو دور اور محبت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ان دونوں کا باہم ہونا ہر قسم کے غلط استعمال کے احتمال کو دور کردیتا ہے۔

۵۔ ایک اور حدیث میں ا مام بزرگوار بدترین لوگوں کا یوں تعارف کرواتے ہیں۔

امام فرماتے ہیں: "اشر النا س ۔۔۔ یسر العورۃ"([17])

"بدترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کی غلطی کو معاف نہیں کرتے اور لوگوں کے عیبوں کو نہیں چھپاتے"۔

۶۔ ایک خطاکار شخص کو مأمون کے پاس لایا گیا مأمون نے فیصلہ کیا کہ اُس کی گردن اُڑا دی جائے اور امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام بھی وہیں پر موجود تھے۔ مأمون نے عرض کیا اے ابا الحسن آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فقال اقول: ان للہ۔ عنہ حضرت نے فرمایا:"میرا کہنا ہے کہ عفو کے سوا خدا تمہاری عزت کو نہیں بڑھائے گا"۔

مامون نے جب یہ سنا اُس شخص کو معاف کردیا (احتمال قوی کہ وہ مامون کے خلاف ایک سیاسی جرم کا مرتکب ہوا تھا)

۷۔ ایک اور حدیث میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔

"قلۃ العفو ۔۔۔ اعظم الذنوب"([18])

"عفو اور درگذشت میں کمی عیوب میں سے ہے اور انتقام لینے میں جلدی بڑے گناہوں میں سے ہے"۔

۸۔ وہی حضرت (ع) نہج البلاغہ میں کلمات قصا ر میں فرماتے ہیں:

اذا قدرت ۔۔۔ للقدرۃ علیہ([19])

"جب اپنے دشمن پر فتح پاؤ ت اپنی فتح کا شکرانہ عفو قرار دو"

اسی معنی کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے جیسے کہ اس جملے میں فرماتے ہیں:

"العفو زکاۃ الظفر" ترجمہ: "عفو کی کامیابی زکوۃ ہے" ([20])

۹۔ امام ابو الحسن علیہ السلام (امام رضا یا امام ہادی علیہما السلام) نے فرمایا:

ما التقت ۔۔۔ عفواً([21])

"دو گروہ جنگ میں ایک دوسرے کے سامنے نہیں آتے مگر یہ کہ زیادہ عفو کرنے والوں کو خدا کامیاب کرے"۔

۱۰۔ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

 "دع الانتقام ۔۔۔ المفتدر"([22])

"انتقام لینا چھوڑ دو کہ یہ قدرتمند لوگوں کے بدترین افعال میں سے ہے"۔

عفو کا مقام کہاں ہے؟

شرح، عقل کتاب اور سنت کی نظر میں عفو اور درگذشت کی فضیلت میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں کسی قسم  کا استثناء موجود نہیں بلکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عفو اور درگذشت خطاکاروں اور قاتلوں میں جسارت اور جرأت کا باعث بنتا ہے یقینی طور پر کوئی بھی ایسے موقع پر عفو اور درگذشت کو اُس کے معنی میں نہیں لے گا بلکہ ایسے موقع پر معاشرہ کی حفاظت اور نہی از منکر اور ایسی خطاؤں اور گناہوں کے بار بار انجام دینے سے روکنے کے لیے عفو اور درگذشت کو ایک طرف چھوڑ دینا چاہیے اور انصاف کے ساتھ مجرمین کو ان کے اعمال کی سزا دینی چاہیے۔

سورہ البقرہ کی آیت ۱۹۴ میں ویسا ہی بدلہ لینے کا دستور شائد اسی لئے دیا گیا ہے۔

جیسا کے ارشاد ربانی ہے: " فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ "

ممکن ہے کہ یہ آیت قصاص کے جائز اور منصفانہ بدلہ لینے کے بارے میں حکم فرما رہی ہو۔

(اصطلاح میں شک کے مقام پر حکم حظر ہے اور واجب یا مستحب ہونے کی دلیل نہیں)

اسلامی احادیث میں اسی اِمکان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ا مام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

العفو یفسد ۔۔۔ من الکریم([23])

"عفو اور درگذشت پست لوگوں کو فاسد کردیتی ہے ا ُسی طرح جیسے صاحب شخصیت لوگوں کی اصلاح کرتی ہے"۔

ایک اور حدیث میں فرمایا: العفو عن ۔۔۔ عفو ([24])

"عفو اُن لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گناہوں کا اقرار اور اعتراف کریں نہ کہ اُن لوگوں کے لیے جو اپنے گناہوں کا تکرار کریں (بارہا انجام دیں)

ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں: جاز بالحسنہ ۔۔۔ سلطان الاسلام([25])

"نیکی کا جواب نیکی سے دو اور بدی کو نظر انداز کرو یہاں تک کہ وہ دین یا اسلامی حکومت کو نقصان نہ پہنچے"۔

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

حق من ۔۔۔ من سبیل([26])

"حق یہ ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ بدی کی ہے اُسے معاف کردو لیکن اگر یہ جانتے ہو کہ تمہارا معاف کرنا خسارے کا باعث ہے تو تم انتقام لے سکتے ہو خدا نے فرمایا ہے جو کوئی مظلوم ہونے کے بعد مدد طلب کر تا ہے (ظالم اُس کے کیے کی سزا دینا چاہتا ہے) اُس کے لیے کوئی اعتراض نہیں ہے۔"

اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خدا کی مقرر کردہ حدود اور  تعزیرات جن کے لیے نص موجود ہو ان میں عفو کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ حدود اور تعزیرات کا اجراء کرنا واجبات میں سے ہے۔

عفو کے اثرات اور محرکات

آیات اور روایات میں موجود اشارات پر توجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عفو اور درگذشت کے بہت زیادہ دلچسپ، حیرت انگیز، مطلوب اثرات ہیں جن میں سے کچھ کا یہاں ذکر کریں گے۔

1.    عفو اور درگذشت کبھی کبھی بدترین دشمنوں کو بہترین دوستوں میں تبدیل کردیتا ہے ہے خاص طور پر جب بدی کا جواب نیکی سے دیا جائے ۔ سورہ فصلت کی آیت ۳۴ میں اِسی نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

2.    عفو اور درگذشت حکومتوں کی بقاء اور دوام کا باعث ہے کیونکہ عفو سے دشمنیاں اور مخالفتیں کم ہوجاتی ہیں طرفداروں اور دوستوں میں اضافہ کا باعث ہے۔ پیغمبر نے فرمایا: عفو الملوک بقاء الملک؛ بادشاہوں کا عفو اور درگذشت اُن کی حکومت کی بقاء کا باعث ہے۔([27])

3.    عفو اور درگذشت عزت اور آبرو کا باعث ہے کیونکہ لوگوں کے لیے یہ بز رگی عظمت، شخصیت اور وسعت قلب کا نشان ہے جبکہ انتقام لینا، کم عقلی اور اپنے نفس پر عدم تسلط کو ظاہر کرتا ہے۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

علیکم بالعفو ۔۔۔ الّا عزا([28])

"تمہیں عفو اور درگذشت کی نصیحت کرتا ہے کیونکہ عفو سے بڑھ کر ایسی کوئی چیز نہیں جو انسان کی عزت میں اضافہ کا باعث بنے"۔

4.    عفو اور درگذشت، غصے، کینے اور ناہنجاری کو کم کرتا ہے۔ حقیقت میں انہیں خاتمے کی حد تک پہنچا دیتا ہے کیونکہ کسی سے انتقام لینا ایک طرف سے دل میں کینے کی آگ جلنے کے مترادف ہے اور دوسری طرف اُسے شدت کے ساتھ انتقام لینے پر اکساتی ہے اور غصے اور کینے کے ذریعے کئی  گنا بڑھا دیتی ہے اور انتقام لینے کی آگ میں کبھی کبھی کتنے ہی قبیلے اس آگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور بے حساب خون بہہ جاتےہیں اور اموال تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تعافوا تسقط الضغائن بنیکم، ایک دوسرے کو معاف کرو کہ اس کے ذریعے کینے اور دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں۔([29])

5.    عفو روح اور جسم کی سلامتی کا باعث  جس کے نتیجے میں طول عمر نصیب ہوتی ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

"من کثر عفوہ مد فی عمرہ"جس کا عفو اور درگذشت زیادہ ہوجائے اس کی عمر بھی طولانی ہوجائے گی"([30])

عفو کے معنوی اثرات

مندرجہ بالا مذکورہ اثرات عفو اور درگذشت کے اجتماعی اثرات ہیں لیکن اس کے معنوی اثرات اور نتاج اس سے بھی زیادہ ہیں اس قدر کافی ہے کہ جان لیں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: العفو مع ۔۔۔ سبحانہ۔([31])

قدرت کے وقت صبر اور درگذشت آتش جہنم کے لیے ایک ڈھال ہے۔

مقدمہ

اس درس میں عفو کی اہمیت روایات اور آیات سے بیان کی گئی ہے نیز عفو کا مقام عفو کے مثبت اور منفی ا ثرات اور عفو کے محرکات کو بیان کیا گیا ہے۔

خلاصہ

1.    قدرت کے وقت انتقام سے کنارہ کشی اور عفو پیغمبروں کا شیوہ تھا۔

2.    خدا نے قصاص کو جائز اور "مُثلہ" کو ناجائز قرار دیا ہے۔

3.    عفو کے بعد اصلاح یعنی خود کی اصلاح یا ظالم اور مظلوم کے درمیان اصلاح کا حکم دیا گیا ہے۔

4.    نیک کام انجام نہ دینے کی قسم بے سود ہے۔

5.    واقعہ افک میں ملوث افراد کو معاف اور اُن کے لیے صفح کا حکم قرآن میں دیا گیا ہے۔

6.    حق کی راہ میں آنے والے جاہلوں سے گریز کرنا چاہیے۔

7.    سیأت کو حسنات میں تبدیل کرنا ا ولی الالباب کی صفت ہے۔

8.    لوگوں کو معاف کرنے سے خدا کی مغفرت کی اُمید بیشتر ہوجاتی ہے۔

9.    قصاص کے خون بھا میں تبدیل ہونے کے بعد ظالم کو دیت کو احسن طریقے سے انجام دینا ہے۔

10.           خون بھا لینے کے بعد بدلہ لینا جرم ہے۔

11.           خدا قصاص کے ذریعے مجرمین کے اندر خوف اور حراس پیدا کرتا ہے تاکہ وہ گناہ سے دور رہے۔

12.           خدا نے دشمنوں کے آزار کے مقابلے میں ہجر جمیل کا دستور دیا ہے۔

13.           لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنے والا  کا اجر خدا کے پاس بے حساب ہے۔

14.           عفو تمام اخلاقی فضائل کا تاج ہے۔

15.           فتح  اور کامرانی کی زکواۃ عفو ہے۔

16.           عفو اور درگذشت کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔

17.           عفو کے مادی اور معنوی اثرات بہت زیادہ ہیں۔

سوالات

#قادر ہونے کے باوجود انتقام سے کنارہ کشی

·       *پیغمبر وں کا شیوہ ہے۔

·       اولیاء کا شیوہ ہے

·       علماء کا شیوہ ہے۔

·       فقراء کا شیوہ ہے۔

# اصلاح سے مراد

·       خدا اور عبد کے رابطے کی اصلاح

·       ظلم اور مظلوم کے درمیان اصلاح

·       عالم اور معلوم کے درمیان اصلاح

·       * الف اور ب درست ہیں

#واقعہ افک میں ملوث کچھ غافل مومنین کے لیے خدا نے ۔۔۔۔ حکم دیا

·       عفو، سرزنش

·       صفح، اصلاح

·       اصلاح، ملامت

·       عفو اور صفح

#مُثلہ سے مراد

·       اُن کے جیسا سلوک

·       اُن کو معاف کرنا

·       *کئی گنا زیادہ دشمنوں بدلہ لینا

·       بدلہ

#یہ آیت قاتلوں کے لیے خوف اور اُمید رکھتی ہے۔

·       یا ایھا الذین ۔۔۔ عذاب الیم(سورہ بقرہ، ۱۷۸)

·       یا ایھا الذین ۔۔۔ غفور رحیم (سورہ تغابن، ۱۴)

·       ادفع بالتی۔۔۔ یصمعون(سورہ مومنون، ۹۶)

·       و اصبرو  ۔۔۔ الا باللہ (سورہ نحل، ۱۲۷)

# با ایمان لوگوں کا برتر مقام

·       عفو اور دوسرے کو معاف کرنے کی تلقین

·       عفو، اور غفران

·       عفو اور خسارے کی تلافی

·       * غفران، گناہ کے آثار کو چھپانا

# ہجر جمیل یعنی

·       صبر جمیل

·       * شائستہ روی

·       تربیتی مرحلہ

·       خود سازی

# العفو تاج المکارم سے مراد

·       * اخلاقی فضائل کا تاج

·       فضائل کی زینت

·       شخصیت کا اعلیٰ ہونا

·       گرانبھا خزانہ

# حدیث کے مطابق، جن چیزوں کے ثواب کا وزن نہیں۔

·       لوگوں کی ہدایت، امر بہ معروف

·       امر بہ معروف و نہی عن المنکر

·       * عفو اور عدالت

·       خود سازی اور عدالت

# عفو، کم ظرف اور پست لوگوں کے ۔۔۔۔ کا باعث ہے۔

·       ہدایت

·       فاسد کرنے

·       نیکی کا حکم دینے

·       احساس گناہ

 



[1]۔ شوریٰ ۴۰۔

[2]۔ سورہ نور، ۲۲۔

[3]۔ سورہ اعراف، ۱۹۹۔

[4]۔ مجمع البیان، ج۲، ص ۵۱۲۔

[5]۔ نحل، ۱۲۶۔

[6]۔ تفسیر عیاشی و الدر المنثور، مورد بحث آیت کےذیل میں۔

[7]۔ سورہ نحل، آیہ ۱۲۷۔

[8]۔ سورہ مومنون، آیہ ۹۶۔

[9]۔ سورہ بقرہ، ۱۷۸۔

[10]۔ سورہ تغابن ، ۱۴۔

[11]۔ سورہ تغابن، آیہ ۲۴۔

[12]۔۔

[13]۔ مجمع البیان، ج۱۰، ص ۳۷۹۔

[14]۔ اصول کافی، ج۲، ص ۱۰۷۔

[15]۔ شرح غرر الحکم، ج۱، ص ۱۴۰، حدیث ۵۲۰۔

[16]۔ غرر الحکم، ج۱، ص ۱۴۰، حدیث ۵۲۰۔

[17]۔ شرح غرر الحکم، ج۴، ص ۱۷۵۔

[18]۔ شرح غرر الحکم، ج۴، ص ۵۰۵، حدیث ۶۷۶۶۔

[19]۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، حدیث ۱۱۔

[20]۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، ۲۱۱۔

[21]۔ بحار الانوار، ج۶۸، ص ۴۲۴، حدیث ۶۵۔

[22]۔ شرح غرر الحکم، ج۴، ص ۲۰۔

[23]۔ کنز الفوائد، ج۲، ص ۱۸۲۔

[24]۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲۰، ص ۳۳۰، حدیث ۷۸۳۔

[25]۔ غرر الحکم، ۴۷۸۸۔

[26]۔ میزان الحکمۃ، ج۳، ص ۲۰۱۵، حدیث ۱۳۲۲۵۔

[27]۔ بحار الانوار، ج۷۴، ص ۱۶۸۔

[28]۔ اصول کافی، ج۲، ص ۱۰۸۔

[29]۔ کنز العمال، ج۳، ص ۳۷۳، حدیث ۷۰۰۴۔

[30]۔ میزان الحکمہ، ج۳، حدیث ۱۳۱۸۴۔

[31]۔ غرر الحکم، ج۱، ص ۳۹۸، حدیث ۱۵۴۷۔

حجت مشن

۲۲ بهمن انقلاب اسلامي ايران جي سالگره انقلاب اسلامي ايران جي سالگره تي تمام مؤمنن کي حجت مشن پاران مبارڪابد عرض ڪيون ٿا الله سائين هن اسلامي انقلاب کي ترقي عنايت فرمائي 

Template Design:Dima Group

Back to Top